ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / دیر رات تک منایا گیا بھٹکل میں کانگریس کی فتح کا جشن؛ بچے، عورتیں اور بوڑھے سبھی ہوئے شامل

دیر رات تک منایا گیا بھٹکل میں کانگریس کی فتح کا جشن؛ بچے، عورتیں اور بوڑھے سبھی ہوئے شامل

Tue, 16 May 2023 20:21:30    S.O. News Service

بھٹکل:16؍ مئی (ایس اؤ نیوز ) ریاست کے اسمبلی انتخابات میں بھٹکل ۔ہوناور اسمبلی حلقہ سے کانگریس پارٹی کی جیت کا اعلان ہوتےہی سنیچر کی شام سے لےکر دیر رات تک بھٹکل شہر  سے گزرنے والی  قومی شاہراہ پر بچے، عورتیں، بوڑھے سمیت ہزاروں لوگ منکال وئیدیا کی جیت کا جشن منانے اور منکال وئیدیا کا بھٹکل میں پرتپاک استقبال کرنے سڑک کنارے کھڑے ہوگئے اور ان کی جیت کاجشن منایا۔ خاص کر تینگن گنڈی کراس اور قلب شہر شمس الدین سرکل پر نظارہ دیکھنے لائق تھا۔بھگوا، سفید اور سبزرنگ کا ہندوستانیوں کی پہچان ترنگے کے ساتھ بھگوا بجرنگی ، سبز  اور امبیڈکر کی تصویر والے نیلے جھنڈے سرکل پر لہرا رہے  تھے۔ برسوں بعد بھارتی پرچم کے ساتھ مختلف دھرموں کی شناخت والے جھنڈے ایک ساتھ لہراتے ہوئے بڑاخوبصورت منظر پیش کررہے تھے وہیں دنیا بھر میں  دنیا میں جن خصوصیات کے لئے بھارت کی پہچان ہے شمس الدین سرکل اس کی عملی تصویر پیش کررہاتھا۔ اور پوری ریاست کو پیغام دے رہا تھا کہ کسی ایک انتخابات میں جیت کا جشن سبھی مذہب کےلوگ مل کر ایسے مناتےہیں۔

حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کو دیکھیں تو کانگریس کی جیت اور بی جےپی کی ہار ہوئی ہے۔ بی جےپی لیڈران نے ہی بیان دیا ہےکہ ہم سنامی میں بہہ گئے ہیں۔

 اس سے قبل بی جے پی نے جس طرح کی نفرت انگیزی، دشمنی ، بے وقوفی  اور پیچیدگی کا مظاہرہ کیا، ان سب پر غورکرنا ہوگا۔ بی جےپی کےلئے ایک بہتر، شفاف حکومت سے زیادہ  جذباتی  لڑکوں کو لے کر سوشیل میڈیاپر جھوٹ، نفرت اور جعل سازی کو پھیلانا ہی بڑاکام ہوگیا تھا جس کے دوران انتخابی نتائج سامنےآئے۔ دراصل نوٹ بندی کے نام پر کھیلے گئے ڈرامے سے ہی اس کی شروعات ہوچکی تھی۔ ملک کے کالے دھن کو ختم کرنےکے جھوٹے وعدوں پر عوام کب تک بھروسہ کریں گے؟ اگر واقعی  کالا دھن ختم ہواہے تو پھر اس کے بعد ہونےو الے انتخابات میں اکثر سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں نے ووٹ کےلئے پیسہ کہاں سے تقسیم کئے ، اپنی انتخابی تشہیر بازی کےلئے کروڑوں کا روپیہ کہاں سے لائے؟ بی جےپی نے اپنی چالاک تشہیری مہم کے ذریعے ایسے حالات پیدا کئے کہ عوام سوال کر ہی نہیں پائے۔ بی جے پی گئو کشی کے نام پر آج سیاسی فائدہ اٹھارہی ہے۔ لیکن جن ریاستوں میں بی جے پی برسراقتدار ہے وہاں بغیر کسی روک ٹوک کے گائے کا گوشت کیسے بیچا جارہاہے ؟ جانے دیجئے۔ 56انچ سینہ رکھنے والے وزیراعظم کے ملک سے ٹنوں کے حساب سے گوشت کیسے سپلائی کیاجارہاہے اور کونسی کمپنیاں سپلائی کررہی ہیں؟ ان میں سے کسی کا جواب میسر نہیں ہے۔ تشہیر بازی اور حکومت کو الگ الگ رکھتے ہوئے آخر کتنے دنوں تک عوام کو بے وقوف بنا سکتےہیں ؟ اسی طرح حلال، اذان، مسلم بیوپاریوں پر پابندی جیسے معاملات کیا ہیں؟ ملکی قانون کے رکھوالے ہی انتخابات کے قریب ان سب کے تعلق سے خاموشی برتنے کہیں توکیسے چلے گا؟ حالیہ اسمبلی انتخابات کے ووٹنگ کے دن جیسے جیسے قریب آرہے تھے بجرنگ بلی کی آواز کانوں میں بڑی زور سے گونج رہی تھی ۔ ملک کے وزیراعظم ووٹ کے لئے بہت نیچے چلے گئے۔ کانگریس کی طرف سے پیش کئے گئے بجرنگ دل پرپابندی اور بجرنگ بلی کا کیا تعلق؟ اگر سوال کریں کہ  بی جےپی کی حکومت والی ریاستوں میں پابندی عائد کئے گئے  شری رام سینا اور شری رام کا کیا تعلق ہے  تو کسی سے کوئی جواب نہیں بن پایا ہے۔ ریاست کی ترقی کا پیش نامہ پیش کرنے کے بجائے بی جےپی لیڈران بجرنگی جھنڈا لےکر ووٹ مانگنےلگے۔ لیکن ووٹرس سنی ان سنی کردی۔ ایسے کئی واقعات کو یہاں نقل کیاجاسکتاہے۔ اگر یہ ریاست کی صورت حال ہے تو بھٹکل کی تصویر کچھ اور کہتی ہے۔

بھٹکل کو پہلے سے ہی فرقہ وارانہ حساس کہاجاتاہے۔ بی جےپی کا خیال ہے کہ  یہاں پولرائزیشن ہوا توہمیں فائدہ ہوگا۔ پریش میستا، ماگوڈ کی لڑکی، بھٹکل میونسپالٹی جیسے واقعات کو لے لیجئے پہلے سے پھوٹ ڈالنے والی کارستانیوں کو زیادہ توجہ دیاجاتا رہاہے۔ میونسپالٹی پر اردو بورڈکی نصب کاری کا معاملہ ہو ، کھلی سڑک پر ناگ بنا کے عوامی طعام کا پروگرام ہو۔ ان سب کو کچھ اس انداز میں پیش کیا گیا کہ جیسے انہوں نے دوسرے دھرم کے لوگوں کو پسپا کرتےہوئے بہت بڑا معرکہ سر کرلیایو۔ خیال رہےکہ ان معاملات کولےکر بی جےپی والوں نے سوشیل میڈیا پر خوب تشہیر کی۔ یہاں بھی پھوٹ اور نفرت پیدا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ  تشہیری مہم کے دوران بی جے پی والے اچھی طرح جانتے تھے کہ خود رکن اسمبلی سنیل نائک فرقہ پرست نہیں ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہےکہ ترقیاتی کاموں سے زیادہ حساس معاملات کو تشہیری سامان بنایاگیا۔ اسی دوران ریزرویشن کو لےکر حکومت کے نفرتی  سیاست کا نظریہ واضح ہوگیا تھا۔ اسی وقت مسلمانوں نے سوچا کہ جب ریاست میں اس طرح کی صورت حال پیدا ہورہی ہے تو کل کو ہمارےاپنے گاؤں میں بھی ہم پر حملہ ہوسکتاہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی، اتنا ہی نہیں بلکہ اس کو انہوں نے  منصوبہ بند طریقے سے عملی جامہ پہنایا۔ ہلیال حلقہ سے شکست کھائے بی جےپی کے امیدوار سنیل ہیگڈے نے اس طرح کی بات علی الاعلان کہی ہے کہ تنظیم نے آخری وقت تک اپنا موقف ظاہر نہیں کیا۔ جب محسوس ہوا کہ جے ڈی ایس ، بی جےپی کامقابلہ ممکن ہی نہیں ہے تو مجلس اصلاح وتنظیم نے ووٹنگ سے صرف ایک دن پہلے والی رات میں تمام اسپورٹس سینٹروں کےذریعے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوااس کی تاریخ رقم ہوچکی ہے۔ 13مئی کو انتخابی نتائج کا اعلان ہوتے ہی عید کی طرح بھٹکل شہر میں خوشیاں منائیں گئیں۔ اگر کچھ تبدیل ہوا تو بس یہی ہوا کہ بھٹکل شہر کے شمس الدین سرکل پر سبھی دھرموں کےجھنڈے ایک ساتھ لہراتے ہوئے پائے گئے۔ اب جھنڈوں کو اسی طرح کھلی ہوا میں لہراتے رکھنا برسر اقتدار کانگریس کی سب سے بڑی اور اہم  ذمہ داری ہے۔ (رپورٹ بشکریہ: وسنت دیواڑیگا/کراولی منجاو)


Share: